لاہور (سوھنا پاکستان رپورٹ) پنجاب بھر بالخصوص سرگودھا سے کنو وسطی ایشیا اور روس بھیجنے کا روڈ میپ مکمل .پاکستان کی کنو کی برآمدات کے لیے ایک نیا اور اہم راستہ تیار ہو گیا ہے جس سے ملک کے فارمز کو اس سال پہلے سے زیادہ وسیع مارکیٹ ملنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ اس سال چونکہ ایران بھی کھل رہا ہے، کنو ایران کے زاہدان کے راستے وسطی ایشیا اور روس تک بھیجا جا سکے گا، اور افغانستان میں بھی سپلائی کے متبادل راستے کھل جائیں گے۔ حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کی خصوصی کوششوں کی وجہ سے اس دفعہ کنو کی مارکیٹ پہلے سے زیادہ مستحکم اور وسیع نظر آ رہی ہے، جس سے ریٹس میں بڑھوتری کے امکانات بھی روشن ہیں۔ پاکستان ریلوے اور نجی شعبے نے مل کر کنو کی برآمدات کے لیے ایران کا راستہ فعال کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ زاہدان کے ذریعے کنو وسطی ایشیا کی ریاستوں جیسے ازبکستان، تاجکستان اور قازقستان تک پہنچ سکے گا اور وہاں سے روس کی مارکیٹوں تک بھی رسائی ممکن ہو گی۔ نجی شعبے نے وعدہ کیا ہے کہ زاہدان پہنچنے کے بعد لوڈنگ، کسٹمز کلیئرنس اور آگے کی نقل و حمل کا انتظام خود کرے گا، جس سے سپلائی چین مستحکم ہو جائے گی۔اجلاس میں نجی شعبے نے آئندہ برآمدی سیزن کے لیے سردگودھا سے زاہدان تک کنو کی نقل و حمل کے بڑے مطالبات بھی رکھے۔ پاکستان ریلوے نے کرایہ اور دیگر مالیاتی معاملات کے بارے میں ابتدائی رہنما خطوط طے کر دیے ہیں اور جلد تفصیلی معاہدہ طے کیا جائے گا۔اس قدم سے نہ صرف پاکستان کے کنو کو پہلے سے وسیع مارکیٹ مل رہی ہے بلکہ یہ ریلوے اور نجی شعبے کی کوششوں کی بدولت پاکستان کی تجارتی سٹریٹیجی کو بھی مضبوط کر رہا ہے۔ اس دفعہ مارکیٹ پہلے سے بہتر ہے اور کسان اور برآمد کنندگان کے لیے ریٹس میں اضافے کے امکانات روشن ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ چھوٹے وپاریوں اور باغبانوں تک جلد از جلد یہ خبر پہنچائی جاے تا کہ مارکیٹ میں مایوسی پھیلا کر باغبانوں اور چھوٹے وپاریوں کا استحصال کرنے والوں کے ارادے زمیندار و پاکستانی قوم پورے باغبان گروپ کے ساتھ مل کر مٹی میں ملا دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *