تمام تعریفیں اس خدائے برتر کے لیے جس نے عورت کو نازک اور حساس بنایا، مگر ساتھ ہی اس کے وجود میں صبر، محبت، ایثار اور قربانی جیسی عظیم صفات بھی رکھ دیں۔ عورت تخلیقِ انسانی کے عظیم ترین مرحلے سے گزرتی ہے۔ ماں بننے کے سفر میں وہ جتنی تکالیف، آزمائشیں اور درد برداشت کرتی ہے، وہ الفاظ میں بیان نہیں کیے جا سکتے۔ اپنی آنے والی اولاد کے لیے وہ اپنی نیند، اپنی راحت اور اپنی خواہشات تک قربان کر دیتی ہے۔ اسی عظیم قربانی کے باعث اللہ تعالیٰ نے ماں کو وہ بلند مقام عطا فرمایا کہ جنت اس کی اولاد کے لیے اس کے قدموں تلے رکھ دی گئی۔

قرآنِ پاک میں کائنات کی عظیم ترین خواتین کے کردار نہ صرف بیان کیے گئے ہیں بلکہ ان کی صفات کو مثال بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ حضرت مریمؑ کی پاکیزگی، حضرت آسیہؑ کا ایمان اور حضرت خدیجہؓ کی وفاداری و قربانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ عورت جب ایمان، کردار اور صبر کے راستے پر چلتی ہے تو وہ پوری قوم کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کائنات عورت کے بغیر نامکمل ہے اور نسلِ انسانی اس کے بغیر آگے بڑھ ہی نہیں سکتی۔ ماں، بیوی، بیٹی اور بہن—ہر روپ میں عورت زندگی کے حسن، توازن اور محبت کا سرچشمہ بنتی ہے۔ ماں اپنے بچوں کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ وہی ان کے دلوں میں اخلاق، محبت، برداشت اور ایمان کے بیج بوتی ہے۔ ایک باکردار ماں دراصل ایک باکردار معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے۔

اسلامی تاریخ ہو یا انسانی تاریخ، خواتین کے حوصلے، صبر اور جرأت کی بے شمار روشن مثالیں موجود ہیں۔ اسلام نے عورت کو جو عزت، وقار اور حقوق عطا کیے ہیں، وہ کسی بھی دوسرے نظام میں اس قدر متوازن انداز میں نظر نہیں آتے۔ اسلام نے عورت کو جائیداد میں حق دیا، تعلیم کا حق دیا اور معاشرے میں عزت و احترام کا مقام عطا کیا۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ کر اس کے مقام کو بلند کیا، بیٹی کو رحمت قرار دیا اور بیوی کو سکون و محبت کا ذریعہ بنایا۔

آج کے دن کا پیغام یہ ہے کہ عورتیں اپنی رہنمائی ان عظیم خواتین سے حاصل کریں جن کا ذکر قرآنِ مجید میں بہترین نمونوں کے طور پر آیا ہے۔ وہ خواتین جو نبیوں اور پیغمبروں کی مددگار بنیں، جنہوں نے اپنی اولاد کی بہترین تربیت کی اور ایسی نسلیں پروان چڑھائیں جن کے کردار پر دنیا رشک کرتی ہے۔ وہ مومنہ عورتیں تھیں جنہوں نے دنیا کے جھوٹے خداؤں کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور حق کی خاطر باطل کے مقابلے میں ڈٹ گئیں۔

عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی اصل اور اپنی شناخت سے جڑی رہے۔ جدید دنیا کی چمک دمک اور وقتی رجحانات کے پیچھے اپنی اقدار کو فراموش نہ کرے۔ ایک عورت جب اپنے کردار، حیا اور وقار کو اپنا زیور بنا لیتی ہے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے روشنی کا مینار بن جاتی ہے۔

یاد رکھیں کہ آپ اللہ کی ایک عظیم نعمت ہیں۔ اگر آپ باکردار، باعمل، باحیا اور باوقار ہیں تو آپ کائنات کی حقیقی خوبصورتی ہیں۔ ظاہری خوبصورتی وقتی ہوتی ہے مگر باطنی خوبصورتی انسان کے کردار اور اخلاق سے ظاہر ہوتی ہے۔ جب انسان کا باطن روشن ہوتا ہے تو اس کا ظاہر خود بخود اس روشنی کی گواہی دینے لگتا ہے۔

بحیثیت ماں ہمیں ایسی نسل کی تربیت کرنی ہے جو حلال و حرام میں فرق پہچان سکے، حق اور باطل کے درمیان تمیز کر سکے اور مضبوط اخلاق و کردار کی حامل ہو۔ کیونکہ آنے والا معاشرہ دراصل آج کی ماؤں کی گود میں پروان چڑھ رہا ہوتا ہے۔ اگر ماں اپنے بچوں کے دلوں میں ایمان، دیانت اور محبت کا چراغ روشن کر دے تو وہ نسل کبھی گمراہی کا شکار نہیں ہوتی۔

بحیثیت بیوی ہمیں اپنے شوہر کو رزقِ حلال کی طرف راغب کرنا چاہیے۔ ایک حلال لقمہ گھر میں برکت اور سکون لاتا ہے جبکہ حرام کا ایک لقمہ کئی نسلوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ بحیثیت بہن ہمیں اپنے بھائی کی عزت اور غیرت کا تحفظ کرنا ہے اور بحیثیت بیٹی اپنے والدین کے لیے وقار اور فخر کا باعث بننا ہے۔

مردوں سے بھی ایک درخواست ہے کہ عورت کو ایک پھول کی طرح سمجھیں۔ اس کی شخصیت کو مسلنے کے بجائے اس کی قدر کریں اور خود آگاہی کے سفر میں اس کا ساتھ دیں۔ عورت کمزور نہیں بلکہ معاشرے کی تعمیر میں مرد کے شانہ بشانہ ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر مرد اور عورت ایک دوسرے کا احترام کریں تو گھر سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے اور معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔

اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے ایک سوال بھی ہے کہ اگر واقعی عورت کے حقوق کی بات کی جاتی ہے تو معیار سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ طاقتور کے لیے ایک معیار اور کمزور کے لیے دوسرا معیار انصاف نہیں کہلاتا۔ جب معصوم بچیوں کے اسکولوں پر حملے ہوتے ہیں، جب ننھی کلیاں کھلنے سے پہلے ہی مرجھا دی جاتی ہیں، جب کمزور عورتیں ظلم و جبر کا شکار ہوتی ہیں تو انسانیت کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ حقیقی انصاف اور حقیقی حقوقِ نسواں آخر کہاں کھڑے ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم عورت کو اس کے اصل مقام اور عزت کے ساتھ دیکھیں۔ اسے تعلیم، شعور اور احترام دیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لا سکے۔ کیونکہ ایک باوقار عورت نہ صرف ایک گھر کو سنوارتی ہے بلکہ ایک پوری قوم کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر عورت اپنے کردار، ایمان اور وقار کو مضبوط بنا لے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے روشنی کا مینار بن سکتی ہے۔ ایک باوقار عورت دراصل روشن نسلوں کی بنیاد ہوتی ہے، اور روشن نسلیں ہی ایک عظیم قوم کی پہچان بنتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *