کراچی: مہنگے پیٹرول نے شہریوں کی ترجیحات بدل دیں، جس کے نتیجے میں شہر میں الیکٹرک بائیکس اور سکوٹرز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں الیکٹرک بائیکس کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ڈیلرز کے پاس موجود اسٹاک تیزی سے ختم ہو چکا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ معروف برانڈز کی بائیکس کے لیے 3 سے 6 ماہ تک کی پیشگی بکنگ شروع کر دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے شہریوں کو متبادل ذرائع کی طرف راغب کیا ہے، جس کے باعث الیکٹرک سکوٹرز اور بائیکس کی خریداری میں اچانک تیزی آئی ہے۔ کراچی کی بڑی بائیک مارکیٹس میں صارفین کی بڑی تعداد اب روایتی پیٹرول بائیکس کے بجائے بجلی سے چلنے والی سواریوں کی تلاش میں نظر آتی ہے۔
ڈیلرز کا کہنا ہے کہ صرف 15 دن کے مختصر عرصے میں پورے ملک میں الیکٹرک سکوٹرز کا دستیاب اسٹاک تقریباً ختم ہو گیا۔ ان کے مطابق عید سے چند دن قبل فروخت میں اضافہ شروع ہوا جو عید کے بعد بھی بدستور جاری رہا، اور اب طلب کے مقابلے میں رسد انتہائی کم ہو چکی ہے۔
دوسری جانب صارفین کا کہنا ہے کہ پیٹرول بائیکس کی قیمتوں میں اضافے اور ایندھن کے اخراجات نے ان کے بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایک صارف کے مطابق اگر روزانہ 500 روپے کا پیٹرول ڈلوایا جائے تو ماہانہ خرچ 15 ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے، جو کہ ایک عام آدمی کے لیے مشکل ہے۔ ایسے میں تھوڑی بچت کر کے الیکٹرک بائیک خریدنا زیادہ مناسب فیصلہ لگتا ہے۔
صارفین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ الیکٹرک بائیکس نہ صرف سستی پڑتی ہیں بلکہ ماحول دوست بھی ہیں۔ ان کے مطابق یہ نہ صرف اخراجات کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا باعث بھی بنتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کا استعمال مزید تیزی سے بڑھ سکتا ہے، جو معیشت اور ماحول دونوں کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوگا۔
