لاہور(آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے خاتون سے زیادتی کے مقدمے میں 25سال قید کی سزا پانے والے ملزم کو بری کردیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس امجد رفیق نے زیادتی اور جنسی تعلقات کے مقدمات میں نئے اصول وضع کردیئے،جسٹس امجد رفیق نے نیاقانونی نکتہ طے کرتے ہوئے کہاکہ زیادتی ثابت نہ ہو تو ملزم کو کسی دوسرے جنسی جرم میں سزا نہیں دی جا سکتی، زیادتی کا جرم ثابت نہ ہونے پر مقدمہ ناجائز جنسی تعلقات میں تبدیل کرکے سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے ملزم غلام فرید کی اپیل پر 14صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، عدالت نے کہاکہ مقدمہ میں ریپ کا سیکشن لگا ہے، سزا کیلئے اسی سیکشن کو ثابت کرنا ہوگا،یہ نہیں ہو سکتا کہ ریپ ثابت نہ ہوتو آپ کہیں کہ جنسی تعلقات تھے اس بنیاد پر ریپ کی سزا دی جائے۔
ملزم کے خلاف 2010میں زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، 2021میں ٹرائل کورٹ نے عمر قید کی سزا کا حکم سنایا۔ جسٹس امجد رفیق نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نکاح کالعدم ہونے پر ٹرائل کورٹ کو رضا مندی کا سوال شواہد کی بنیادپرطے کرنا ہوگا، اس حوالے سے ایک معقول شک بھی ملزم کو بری کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے،عدالت نے کہاکہ مقدمے کا شریک ملزم بری ہو چکا ہے،اور اسی الزام پر دوسرے ملزم کو سزا نہیں دی جا سکتی ۔
جسٹس امجد رفیق نے فیصلے میں کہا کہ 100مجرم بھی چھوٹ جائیں تو ایک بے گناہ کو سزا نہیں ہونی چاہئے،لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کافیصلہ کالعدم قرار دے کر ملزم کو رہا کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔
