دنیا کی سب سے بڑی طاقت وہ دل ہوتا ہے جو خوف کے سامنے جھکنے سے انکار کر دے جب انسان اپنے اندر بیٹھے ہوئے خوف کو شکست دے دیتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اسے ہرا نہیں سکتی میدانِ جنگ ہو یا زندگی کی آزمائشیں اصل فتح ہمیشہ اسی کے حصے میں آتی ہے جو ثابت قدم رہتا ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ خوف غلام بناتا ہے جبکہ حوصلہ قوموں کو امر کر دیتا ہے ” طوفان کبھی صرف تباہی کے لیے نہیں آتے ہر طوفان اپنے ساتھ ایک فیصلہ بھی لے کر آتا ہے وہ کمزور بنیادوں کو گرا دیتا ہے لیکن انہی ہواؤں کے درمیان وہ چٹان بھی نمایاں ہو جاتی ہے جسے کوئی آندھی ہلا نہیں سکتی یہی قدرت کا قانون ہے کہ آزمائشیں صرف نقصان نہیں پہنچاتیں بلکہ اصل کردار کو دنیا کے سامنے آشکار بھی کر دیتی ہیں ” قوموں کی زندگی میں بھی ایسے ہی نازک لمحات آتے ہیں جب فیصلے صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ حوصلوں کے اندر ہوتے ہیں ایسے وقت میں دانشمند قیادت صرف طاقت کا مظاہرہ نہیں کرتی بلکہ امن ” استحکام اور مستقبل کی تعمیر کو بھی اپنی ترجیح بناتی ہے حقیقی بہادری صرف جنگ لڑنے میں نہیں بلکہ اس مقام تک پہنچنے میں ہے جہاں عزت ” وقار اور قومی مفاد کے ساتھ امن کا راستہ بھی ہموار کیا جا سکے ” بات چیت کو فروغ دینا ” جنگ بندی میں توسیع کی حمایت کرنا اور خطے میں استحکام کے لیے سفارتی اور عسکری سطح پر مسلسل کوششیں اس سوچ کی عکاسی کرتی ہیں کہ ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو اپنی قوت کے باوجود امن کو ترجیح دے ” طاقت کا اصل معیار صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اس بصیرت میں پوشیدہ ہوتا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے ” پاکستان کی تاریخ قربانیوں ” استقامت اور عزم کی داستان ہے اس سرزمین نے بے شمار آزمائشیں دیکھی ہیں مگر ہر امتحان کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھری ہے دشمن جب بھی خوف پھیلانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ وہ قومیں کبھی شکست نہیں کھاتیں جن کے ایمان ” اتحاد اور حوصلے زندہ ہوں ان کے ارادے فولاد سے زیادہ مضبوط اور ان کی امیدیں پہاڑوں سے زیادہ بلند ہوتی ہیں ” آج بھی وقت یہی پیغام دے رہا ہے کہ خوف کو شکست دینا ہی سب سے بڑی فتح ہے جب قوم اپنے مقصد پر یقین رکھتی ہو اپنے محافظوں پر اعتماد کرتی ہو اور اپنے وطن سے بے لوث محبت کرتی ہو تو پھر کوئی سازش ” کوئی دباؤ اور کوئی طوفان اس کا راستہ نہیں روک سکتا ” آزمائشیں آتی رہیں گی ” حالات بدلتے رہیں گے لیکن ثابت قدم قومیں ہر اندھیرے کے بعد روشنی کا نیا باب رقم کرتی ہیں ”
میرے پیارے پاکستانیو !
جب بحران اپنی انتہا کو پہنچا جب فیصلے کی گھڑی آئی تو اس تلاطم خیز طوفان کے سامنے ایک ایسی چٹان نمایاں ہوئی جس نے لہروں کا رخ موڑ دیا یہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت تھی جب دنیا جنگ کے شعلوں کو مزید بھڑکتے دیکھنا چاہتی تھی وہاں ایک دھیمے مگر فولادی لہجے نے بساط پلٹ دی کمانڈ سینٹر کے نقشوں پر ابلتے ہوئے سرخ نشانات کے بیچ جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری پورے خطے کو راکھ کر سکتی تھی وہاں فیلڈ مارشل نے عسکری طاقت کے ساتھ ساتھ سفارتی تدبر کا وہ پتا کھیلا جس نے دوست اور دشمن دونوں کو ششدر کر دیا بات چیت کو فروغ دینے جنگ بندی میں توسیع اور علاقائی استحکام کی حمایت میں ان کی کوششیں محض عارضی بچاؤ نہیں بلکہ ایک طویل مدتی امن پر مرکوز قیادت کے نقطہ نظر کی زندہ عکاسی بن کر سامنے آئیں انہوں نے ثابت کیا کہ حقیقی طاقت صرف جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روک کر امن قائم کرنے میں ہوتی ہے یہ اس ملک کی مٹی کی تاثیر ہے کیونکہ پاکستان ہمیشہ سے امن کے قیام کا خواہاں رہا ہے لیکن اس امن کی خواہش کو کوئی ہماری کمزوری نہ سمجھے کیونکہ امن کا راستہ اسی وقت نکلتا ہے جب سامنے والے کو معلوم ہو کہ طوفان سے ٹکرانے والی چٹان کا نام پاکستان ہے سازشیں دم توڑ گئیں ” طوفان کے بادل چھٹ گئے اور سنسنی خیز رات کے بعد جب صبح کا پہلا سورج چمکا تو دنیا نے دیکھا کہ جو گرنے والے تھے وہ خاک میں مل گئے اور جو مستحکم تھے وہ پہلے سے زیادہ چمک کر ابھرے لہو کو گرما دینے والے اس عزم کے ساتھ کہ جب تک اس مٹی کے پاس ایسے پاسبان ہیں کوئی اسے ہلا نہیں سکتا !!!!!

میرے پیارے پاکستانیو ! ہمیں اپنے اندر سے خوف کو نکال کر امید ” اتحاد ” محنت اور وطن سے محبت کو جگہ دینی ہو گی کیونکہ وہی قومیں تاریخ کے افق پر ہمیشہ روشن رہتی ہیں جو مشکلات سے گھبرا کر نہیں بلکہ ان کا مقابلہ کر کے اپنی منزل حاصل کرتی ہیں پاکستان ہمیشہ امن ” ترقی ” استحکام اور باوقار مستقبل کا خواہاں رہا ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ سربلند رہے گا !!!!!

پاکستان ہمیشہ زندہ باد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *