حبیب آباد ( نمائندہ خصوصی) حبیب آباد اور گردونواح میں مضر صحت خشک دودھ کی خرید وفروخت کا دھندہ عروج پر، مضر صحت دودھ پینے سے بچے بوڑھے جوان سبھی متاثر فوڈ اتھارٹی و دیگر متعلقہ ادارے فوری نوٹس لیں
تفصیلات کے مطابق حبیب آباد اور گردونواح میں خشک دودھ کا دھندہ عروج پر پہنچ چکا ہے کئی مقامات پر کیمکل ملا خشک دودھ تیار کیا جاتا ہے جسکی فروخت شہر و ملحقہ آبادیوں میں کی جارہی ہے خالص دودھ نایاب ہوچکا ہے شہری مضر صحت دودھ خریدنے پر مجبور ہیں اسکے علاوہ خالص دودھ میں پانی ڈالا جاتا ہے جس سے وہ صحت بخش نہیں رہتا دودھ کو گاڑھا کرنے کے کئی ایسے طریقے اپنائے جارہے ہیں جو کہ انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں پر دکانداروں نے لالچ میں آکر مضر صحت دودھ کی فروخت کو دھڑلے سے جاری رکھا ہوا ہے جس سے نوجوان بچے بوڑھوں میں مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں فوڈ اتھارٹی اور انتظامیہ کو انکے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہوگی عوام کا کہنا ہے ایک تو پاکستان میں بے روزگاری دن بدن اتنی بڑھ رہی ہے کہ ہم اپنے گھروں کا نظام نہیں چلا سکتے دوسرا خشک دودھ بنانے و فروخت کرنے والوں ہمارا جینا محال بنا دیا ہے ہم سے خالص دودھ کی قمیت وصول کر کے کمیکل والا دودھ دیتے ہیں اسی وجہ سے ہر ایک میں بیماریاں پھیل رہی ہیں لہذا ہم وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس گھناونے دھندے کو فوری بند کرنے اور اس ملوث معاشرے کے ناسوروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں
