پتوکی ( عبدالرزاق چاند) 69 سال بعد مارکیٹ کمیٹی پتوکی کا دفتر آخری سانسیں لینے لگا۔ پرانی غلہ منڈی کا کنٹرول میونسپل کمیٹی پتوکی کے پاس واپس جانے کے خوف سے ملازمین سخت پریشان ۔دوکاندار بھی تذبذب کا شکار ۔تفصیلات کے مطابق پتوکی شہر کے وسط میں قیام پاکستان سے غلہ منڈی قائم ہوئی اور 1990 میں یہ غلہ منڈی دوسری جگہ شفٹ ہو گئی اور مارکیٹ کمیٹی پتوکی نے سال 2000 ءمیں 39 پلاٹوں کی نیلامی کی لیکن 17 دوکانیں تعمیر ہوئیں اور باقی پلاٹوں پر لوگوں نے قبضہ کرلیا اور جو خالی جگہ بچی اس پر مافیا نے کھوکھےرکھوا دیے اور یوں یوں اربوں روپے کی پراپرٹی پر قبضہ ہوگیا اور مارکیٹ کمیٹی کے افسران اور اہلکار بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے اور کبھی بھی اپنی پراپرٹی کو قبضہ گروپ سے واگزار نہ کروایا اب یہ جگہ لبرٹی لاہور سے بھی زیادہ مہنگی بکنے لگی۔وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی طرف سے جب پیرا فورس کا قیام عمل میں آیا تو اسسٹنٹ کمشنر پتوکی نشتر رحمن لودھی نے اس جگہ کا وزٹ کیا اور مارکیٹ کمیٹی کے اہلکاروں کی بجائے میونسپل کمیٹی پتوکی کے چیف آفیسر کو ہدایت کی کہ وہ اس جگہ کا سروے کریں ۔سروے کے بعد اب میونسپل کمیٹی پتوکی اس جگہ کو حاصل کرنے کے لئے حرکت میں آ چکی ہے تو دوسری طرف مارکیٹ کمیٹی پتوکی نے خاموشی اختیار کر لی ہے.حالانکہ مارکیٹ کمیٹی پتوکی کا سارا دارومدار اسی غلہ منڈی سے دوکانوں کے کرایہ جات پر تھا ۔مارکیٹ کمیٹی کا تنخواہوں اور پنشن کی مد میں 20 لاکھ روپے بل بنتا ہے لیکن اب اگر یہ جگہ میونسپل کمیٹی پتوکی نے حاصل کر لی تو مارکیٹ کمیٹی دیوالیہ ہو جائے گی کیونکہ اس کی آمدن 5 لاکھ روپے رہ جائے گی اور اضافی 15 لاکھ روپے کہاں سے آئیں گے چھوٹے ملازمین سخت پریشان ہیں کہ اب ان کا کیا بنے گا ۔لیکن دیکھتے ہیں کہ آنے والے چند دنوں میں کیا بنتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *