اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے معاملے میں ہونیوالی کاوشوں سے پردہ اٹھادیا نے بتایاہے کہ “جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کوامریکہ سے واپسی پر استنبول میں رکوا کر ایرانی وزیر خارجہ سے میٹنگ کروائی گئی، مارکو روبیو کے سامنے مقدمہ رکھا کہ ایران جوہری ہتھیارنہ بنانے کو تیار ہے لیکن جوہری توانائی کا پرامن استعمال تو ہرکسی کا حق ہے جو اوباما انتظامیہ بھی تسلیم کرچکی”۔
پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہناتھاکہ ایران اور امریکہ کے معاملے میںاتنا لمباپراسیس ہوا، مجھے یاد ہے کہ اس وقت صورتحال ٹھیک نہیں تھی،12 جون کو عباس عراقچی کے ساتھ میں استنبول میں تھا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرامریکہ سے انگلینڈ کے راستے پاکستان آرہے تھے،میں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے معاملہ پر بات چیت کی توانہوںنے کہاکہ بہتر ہے کہ آپ انہیں(فیلڈ مارشل کو) کہیں کہ استنبول میں رک جائیں، ہم بیٹھ کربات کرلیتے ہیں۔
اسحاق ڈار کا مزید کہناتھاکہ یہ باتیں میڈیاپر نہیں دیں ،میں نہیں انہیں ریکوئسٹ کی اوروہ لندن سے استنبول سے آگئے، وہاں ہم تینوں کی میٹنگ ہوئی، انہیں آمادہ کیا کہ سفارتکاری اور مذاکرات سے مسئلہ حل کریں، پھر سیکریٹری مارکوروبیو کے ساتھ ملاقات ہوئی، ایران کا مسئلہ اٹھایا،امریکہ کا مسئلہ یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائےجو ایران مان چکا ہے، ہم ثالثی کررہے تھے کہ بیٹھ کر مسئلہ سلجھائیں، ردعمل بھی مثبت تھااور اس کے بعد ایرانی صدر کا پاکستان کا دورہ بھی ہوا، اس دوران پھر بات ہوئی تھی ، پاکستان کی کوشش تھی کہ افہام و تفہیم کے ساتھ مسئلہ حل ہوجائے۔
