فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر ” عزمِ نو اور دشمن کی بساط پر آخری چال ” پاکستان کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو قوموں کی تقدیر بدلنے کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں ” آج ہم ایک ایسے ہی عہدِ نو کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں ” پاکستان یہاں سے اب اونچی اڑان کی طرف جائے گا ” محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک حقیقت بن کر ابھر رہا ہے ” اس عزم کے پیچھے ایک ایسی شخصیت کا ہاتھ ہے جسے دنیا اب فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کے نام سے پکارتی ہے ” ایک ایسا سپہ سالار جس نے ثابت کیا کہ بہادری صرف الفاظ میں نہیں ” بلکہ کردار اور فولادی ارادوں میں ہوتی ہے ” لوگ بہادر بننے کی کوشش کرتے ہیں ” کچھ بہادر کہلوانے کے شوقین ہوتے ہیں ” لیکن فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر وہ ہیں جو بہادر ہیں ” ان کی قیادت نے یہ ثابت کر دیا کہ جب ایمان کی طاقت اور پیشہ ورانہ مہارت یکجا ہو جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی قوت بھی آپ کے سامنے سرنگوں ہونے پر مجبور ہو جاتی ہے ” آج اگر دنیا انہیں ایک بہادر فیلڈ مارشل کے طور پر تسلیم کر رہی ہے تو یہ ان کی اس بصیرت کا اعتراف ہے ” جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک باوقار اور مضبوط ریاست کے طور پر متعارف کروایا ” پاکستان کی سرحدوں کے پار بیٹھے بزدل جو شطرنج کی چالیں چلنے کے خواب دیکھ رہے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اب بساط الٹ چکی ہے ” دشمن اپنی سازشوں کے جال بنتا رہا ” لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ سامنے ایک ایسا حافظِ قرآن کھڑا ہے جس کی حکمتِ عملی اور دفاعی بصیرت نے دشمن کے ہر ” مس ایڈونچر ” کو خود ان کے لیے ایک بھیانک خواب بنا دیا ہے ” دشمنانِ پاکستان کان کھول کر سن لیں یہ وہ پاکستان نہیں جسے دبا لیا جائے ” یہ وہ پاکستان ہے جو اب جاگ چکا ہے ” ہماری سرحدوں کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو وہی سرمہ ملے گا جو ابد تک کی نیند سلا دیتا ہے ” فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواجِ پاکستان نہ صرف دفاعی طور پر مزید منظم اور مؤثر ہوئی ہیں بلکہ ملک کی معیشت اور سفارت کاری کو بھی نئی سمت ملی ہے ” چیف آف ڈیفنس فورسز نے یہ باور کروا دیا ہے کہ ایک مضبوط دفاع کے لیے ایک مضبوط معیشت ناگزیر ہے ” آج پاکستان عالمی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے جس اعتماد کے ساتھ کھڑا ہے اس کے پیچھے ایک باصلاحیت اور نڈر قیادت کا عکس صاف نظر آتا ہے ” قوم کا فخر ” دشمن کا خوف ” پاکستانی قوم کو آج اپنے چیف آف ڈیفنس فورسز پر فخر ہے یہ وہ قیادت ہے جس نے قوم کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کی روشنی دکھائی ہے ” فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی صورت میں ہمیں وہ جرنیل ملا ہے جو نہ صرف سرحدوں کا محافظ ہے بلکہ قوم کے وقار کا علمبردار بھی ہے ” دشمن اپنی سرحدوں پر جو بھی شطرنج کی چالیں چلنا چاہے چل لے ” لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی بیک وقت حفاظت کرنا بخوبی جانتا ہے ” کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا مس ایڈونچر دشمن کی تاریخ کا آخری فیصلہ ثابت ہوگا ” پاکستان اب رکنے والا نہیں ” یہ شاہین کی وہ اڑان ہے جس کی منزل اب آسمانوں سے بھی آگے ہے “””
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
افواجِ پاکستان پائندہ باد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *