پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’باہمی دفاع کے سٹریٹجک معاہدے‘ (جوائنٹ سٹریٹجک ڈیفنس ایگریمننٹ) پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘
پاکستان اور سعودی عرب کے رہنماؤں کی جانب سے اس معاہدے کو ’تاریخی‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ سعودی ولیِ عہد شہزاد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کی شام سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اس معاہدے پر دستخط کیے
پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی شراکت داری سے متعلق اس معاہدے کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے حملے کے بعد سے عرب ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے۔
دارالحکومت ریاض کے قصر یمامہ میں محمد بن سلمان اور شہباز شریف کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ آٹھ دہائیوں پر مشتمل دفاعی شراکت داری، سٹریٹیجک مفادات کے تناظر میں دونوں ملکوں نے ’باہمی دفاع کے سٹریٹجک معاہدے‘ پر دستخط کیے ہیں۔
