ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ہر
وہ ٹرینڈ جو ویوز یا پیسہ لائے اور جو دنیا میں رائج ہو، اسے اپنے معاشرے میں رائج کرنا اپنا فرض سمجھ لیا ہے، بغیر سوچے سمجھے۔ ایسے ٹرینڈز ہماری اسلامی، روحانی،ذہنی ،اخلاقی،جذباتی اور معاشرتی اقدار کو پامال کرنے کے ساتھ معاشرے میں تخریبی کردار ادا کر رہے ہیں اور ہماری نسلوں کو تباہی کے دہانے کی طرف لے جا رہے ہیں ۔
فیشن انڈسٹری پہلے ہی اس پر کام کر رہی ہے کہ شیطان کو خوش کیا جائے اور ایسے انداز متعارف کرائے جائیں جن میں زیادہ سے زیادہ جسمانی نمائش ہو، باڈی کٹس کو نمایاں کیا جائے اور عورتوں کو کم سے کم لباس پہنایا جائے۔
اس کے برعکس اسلام ستر پوشی کی بات کرتا ہے، جس میں انسان کے لیے فائدہ، تحفظ، سکون اور فلاح ہے۔
ترجمہ:
“اے آدم کی اولاد! ہم نے تم پر لباس نازل کیا تاکہ تمہاری شرمگاہیں ڈھانپے اور تمہارے لیے زینت ہو، اور تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔”
میڈیا کے ذریعے بھی شیطانی پیروکار وار پر وار کر رہے ہیں۔ ایسے پروگرام اور رجحانات کو فروغ دیا جا رہا ہے جو برائی کو نارملائز کر کے معاشرے کا حصہ بنا رہے ہیں۔ ایسے پروگرامز سامنے لائے جا رہے ہیں جو فزیکل ریلیشن شپس اور غیر اخلاقی رویوں کو پروموٹ کرتے ہیں۔ یہ سب ہماری نسلوں کو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی، روحانی اور جذباتی طور پر بیمار کر رہے ہیں بلکہ تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یہ شیطانی چالیں ہیں مگر ہمیں ہوش کے ناخن لینے ہوں گے کہ ہم ایسا مواد کیوں دکھا رہے ہیں اور کیوں فروخت کر رہے ہیں جو نہ صرف اسلامی بلکہ معاشرتی اقدار و روایات کے بھی منافی ہے۔
آج کل سوشل میڈیا پر کسی پاکستانی ٹرینڈنگ رئیلٹی شو کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ جو برٹش رئیلٹی شو ل”و آئی لینڈ” سے انسپائرڈ ہے۔ حیرت یہ ہے کہ اس کی ہوسٹ کو خود کو مسلمان باور کرانے کے لیے “السلام علیکم” کہنے کی بھی کیا ضرورت تھی؟ اور جس طرح کا لباس انہوں نے زیب تن کیا ہوا تھا، وہ کون سا اسلام یا کلچر رپریزنٹ کر رہی ہے؟ ایک طرف اسلام کا نام لیا جا رہا ہے اور دوسری طرف مغربی کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اوپر سے اس پروگرام کا نام بھی “لازوال عشق” رکھا گیا ہے، حالانکہ یہ لوگ محبت کے اصل مفہوم سے ناآشنا ہیں،عشق کی حقیقت کو کیا جان سکیں گے۔
عشق پاکیزگی کا نام ہے، عشق روح کو پرواز دیتا ہے، عشق انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔ عشق جسمانیت سے بالاتر اور قربِ الٰہی عطا کرنے والا جذبہ ہے۔ تو یہ کون سا عشق ہے جو اس پروگرام کے ذریعے متعارف کرایا جا رہا ہے؟ جس میں حرام کو حلال بنا کر پیش کیا جائے گا۔ یہ لوگ عشق نہیں، صرف جسمانیت کو جانتے ہیں۔اور شیطانی ایجنڈا پہ کام کرتے ہیں۔
کیا انسان کی ذہنی، اخلاقی اور روحانی ضروریات نہیں ہوتیں؟ کیا انسان جسم، نفس اور روح کا مجموعہ نہیں؟ اگر کسی ایک ضرورت کو بھی غلط طریقے سے پورا کیا جائے تو باقی دونوں بیمار ہو جاتے ہیں۔
ہماری نسل پہلے ہی کشمکش کا شکار ہے۔ ذہنی اور جذباتی طور پر بالکل غیر متوازن ہے، اور روحانیت کی تو اب بات ہی نہ کریں۔ تو کیا یہ ان کے جذبات سے کھیلنا اور انہیں غلط راہ پر ڈالنا نہیں؟ کیا ہر حرام کو اس انداز میں پیش کرنا کہ وہ حلال دکھائی دے، شیطان کا وار نہیں؟
آج کل بچوں کو محبت اور عشق کے نام پر ہر ناجائز چیز سکھائی جا رہی ہے۔ پہلے ہی سوشل میڈیا نے یہ سوچ عام کر دی ہے کہ جو بھی پسند آئے وہ فوراً حلال حرام کی تمیز کیے بغیرحاصل ہونا چاہیے، اور یہ سب انہیں غلط اقدار کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہماری حکومت اور اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اگر ہمیں اپنے معاشرے کو بچانا ہے اور اپنی اقدار کو قائم رکھنا ہے، اگر اسلامی جمہوریہ کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں اسلام کی رمق بھی باقی رکھنی ہے تو ایسے پروگرامز پر مکمل پابندی لگانی ہوگی جو ہماری نسلوں کے ذہن، سوچ اور رویے کو بیمار کرتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیا اقدار دے رہے ہیں، انہیں کس دوڑ میں لگا رہے ہیں اور کیوں انہیں خود تباہی کے راستے پر ڈال رہے ہیں۔
کیا مسلمان وہ نہیں تھے جو ایک وقت میں دنیا پر راج کر رہے تھے؟ اور وہ کون سے مسلمان تھے؟ وہ وہی تھے جنہوں نے اسلام کو صرف اپنے معاشرے میں ہی نہیں بلکہ اپنی ذات پر بھی نافذ کیا تھا۔ ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی مسلمان کہلانے کے مستحق ہیں؟ کیا ہم مسلمان کے معنی جانتے ہیں؟ کیا ہم اپنی حدود اور اپنے دین کے تقاضوں کو پہچانتے ہیں؟ کیا ہمیں علم ہے کہ ہمارا خدا ہم سے کیا چاہتا ہے؟ کیا ہم اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ رحمان کو فالو کرنے کے بجائے شیطان کے پیچھے چل پڑیں گے؟ سوچنے کی بات یہی ہے۔
والدین کو ایک اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی اسلامی تعلیمات، زندگی گزارنے کے اصول، اور حلال و حرام کی پہچان سکھائیں، تاکہ جب وہ بڑے ہو کر دنیا کے مختلف رنگ و ماحول دیکھیں، تو بھٹکنے سے محفوظ رہیں۔
ورنہ محبت کے نام پر نسلوں کا استحصال ہو سکتا ہے۔
